Go To All Lyrics

Switch to Read Only Mode

Ghabraeygi Zaynab


ھبرائے گی زینب ۔ منشی چَنُّو لال دِلگیر

گھبرائے گی زینب
بھیّا تمہیں گھر جا کے کہاں پائے گی زینب
گھبرائے گی زینب

کیسا یہ بھرا گھر ہوا برباد اِلہٰی
کیا آئی تباہی
اب اِس کو نہ آباد کبھی پائے گی زینب
گھبرائے گی زینب

گھر جا کے کسے دیکھے گی قاسم ہیں نہ عباس
اکبر سے بھی ہے یاس
اپنے علی اصغر کو کہاں پائے گی زینب
گھبرائے گی زینب

پوچھیں گے جو سب لوگ کہ بازو پہ ہوا کیا
یہ نیل ہے کیسا
کس کس کو نشاں رسی کے دکھلائے گی زینب
گھبرائے گی زینب

پھٹ جائے گا بس دیکھتے ہی گھر کو کلیجہ
یاد آؤگے بھیّا
دِل ڈھونڈے گا تم کو تو کہاں جائے گی زینب
گھبرائے گی زینب

بے پردہ ہوئی قید بھی خواہر نے اُٹھائی
اور موت نہ آئی
کیا جانئیے کیا کیا ابھی دُکھ پائے گی زینب
گھبرائے گی زینب